بھٹکل:8/مارچ (ایس او نیوز) ریاست بھر میں کل 9 مارچ بروز جمعرات سے پی یو سال دوم کے سالانہ امتحانات شروع ہورہے ہیں، امتحانات کو لےکر پی یو بورڈ نے امسال کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن پر طلبا کو خاص کر دھیان دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور باتیں جن سے طلبا پریشان ہوتے ہیں ان کی آسانی کے لئے یہاں کچھ باتیں در ج کی جارہی ہیں اگر ان باتوں کاخیال رکھیں گے تو انشاء اللہ کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
رواں سال سالانہ امتحانات صبح سوا دس بجے شروع ہونگے یعنی طلبا کو 10بجے امتحانی مرکز میں حاضر رہنا لازمی ہے۔طلبا سب سے پہلے اپنا ہال ٹکٹ چک کرلیں، رجسٹرڈ نمبر، نام ، فوٹو اور سنٹر کانام ۔ اگر ہال ٹکٹ میں کوئی کمی یا خامی ہے تو طلبا ان موقعوں پر پریشان ہوکر ادھر ادھر دوڑنے کے بجائے متعلقہ سنٹر کے چیف یا اپنے کالج پرنسپال سے فوری رابطہ کریں، بہتر ہے ایسے موقعوں پر طلبا اپنے کسی رشتہ دار وغیرہ کو ساتھ میں رکھیں تاکہ اگر کوئی ضروری کام آن پڑے تو رشتہ دار کام کرلے گا طلبا امتحان میں بڑی آرام سے شرکت کرسکتاہے۔ سنٹر پہنچنے کے بعد اپنا ہال ٹکٹ نمبر یعنی رجسٹرڈ نمبر کس بلاک (کمرے ) میں ہے جانکاری حاصل کریں ۔ وقت پر کمرے میں داخل ہوتے ہی جس ڈسک پر اپنا نمبر درج ہے اسی پر بیٹھیں ،عام طورپر طلبا پریشانی اور بےچینی کی حالت میں جوابی پرچے پر ڈسک کا نمبر لکھتےہیں ، بہترہے طلبا اپنا ہال ٹکٹ سامنے دیکھ کر جوابی پرچے میں اپنا رجسٹرڈ نمبر لکھیں۔
طلبا توجہ دیں کہ 10-30بجے کے بعد جوبھی طلبا آئیں گے انہیں امتحانی کمرےمیں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اس سے قبل امتحان شروع ہونے کے آدھے گھنٹے تک طلبا کو داخلہ دیا جاتا تھا اس مرتبہ ایسی کوئی سہولت نہیں ہے ، پانچ منٹ بھی دیری ہوتی ہے تو آپ متعلقہ مضمون کے امتحان سے باہر ہوسکتے ہیں ۔
طلبا کو آسانی فراہم کرتے ہوئے سوا دس بجے کو سوالی پرچہ تقسیم کیا جاتاہے۔ 15منٹ طلبا کے پاس وقت رہتاہے سکون و آرام کے ساتھ طلبا اچھی طرح دو تین مرتبہ سوالی پرچہ کا مطالعہ کریں۔ کیونکہ پوراسوالی پرچہ کا مطالعہ کرنےسے جواب لکھنےمیں بہت آسانی ہوتی ہے۔ ایک سوال ، دوسرے سوال سے منسلک رہتاہے اور بعض دفعہ دو سوالات کا مطالعہ کسی جواب کی طرف لے جاتاہے۔ بہر حال طلبا کے لئے ضروری ہے کہ وہ 15منٹ سوالی پرچہ کا لازمی طورپر مطالعہ کریں۔ 10-30 بجے جوابی پرچہ دیا جائے گا۔ جوابی پرچہ ملتے ہی جواب لکھنا شروع نہ کریں بلکہ جوابی پرچے کی جانچ کرلیں، کہیں پھٹا ہوا ہے یا درمیان میں سے صفحات نکل تو نہیں گئے۔ پھر اس کے بعد پہلے صفحے پر طلبا اپنا ہال ٹکٹ نمبر ، مضمون ، میڈیم درج کرنے کے بعد کمرے کا نگراں کا ر اپنے وقت پر دستخط کرے گا ۔ تب آپ اپنا جواب لکھنا شروع کریں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ طلبا پرسکون حالت میں امتحان لکھیں گے تو ڈھائی سے پونے تین گھنٹے میں تقریبا ً پرچہ ختم ہوجاتاہے لیکن طلبا ادھر ادھر دیکھنے ، اشارے کرنے اور باتیں کرنےمیں وقت ضائع کرنےسے آخری اوقات میں جلدبازی کرکے غلطیاں کرتے ہیں ، ایسی حرکات سے بچتے ہوئے اطمینان سے پرچہ لکھیں گے تو وقت مقررہ پر مکمل ہوجاتاہے۔
پی یو سی دوم امتحانات کے تعلق سے حال ہی میں شائع خبروں کی سُرخیاں: