منگلورو:4/ جنوری (ایس اؤنیوز)دکشن کنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر سینتھل اور پولس کمشنر سریش کی ذہانت اور کامیاب کوششوں کے نتیجے میں بدھ کی دوپہر کو کاٹی پالیا کراس پر قتل کئے گئے دیپک راؤ کی نعش کو ریلی کے ذریعے شمشان لے جاکر آخری رسومات ادا کی گئیں۔
کاٹی پالیا میں موجود دیپک کے گھر سے تھوڑی دور پر موجود جنتا کالونی کے شمشان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آخری رسومات اداکی گئیں۔ دوپہر 12بجے اچانک احتجاج شروع کیا گیاتو ڈی سی کی مداخلت سے معاملہ حل کرلیاگیا ۔ اس کے بعد کاٹی پالیا سے شمشان تک ریلی کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اجازت دی گئی ۔
سخت پولس سکیورٹی کے درمیان نکلی ریلی 6کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرنےکے بعد دو بجے کے قریب کاٹی پالیا جنتا کالونی کے شمشان پہنچی جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ آخری رسومات کے لئے نکلی ریلی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئےاس کے لئے پولس محکمہ کی طرف سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سسی کانت سنتھل، شہری پولس کمشنر ٹی آر سریش ، مئیر کویتا سنیل جائے وقوع پر موجود تھے۔
ڈی سی سینتھل کی کوششوں سے معاملہ سلجھا: بی جے پی کارکن قرار ردینے والے دیپک جس کا کل بدھ کو قتل ہوا تھا، آج گھروالوں نے نعش کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس ضد پر آڑ گئے تھے کہ پہلے وزیر داخلہ جائے وقوع پر پہنچے، اُس کے بعد ہی نعش لے جائیں گے۔ مگر ڈپٹی کمشنر شسی کانت اور پولس کمشنر ٹی آر سریش، اپنی انتھک کوششوں کے بعد دیپک کے خاندان والوں اور کاٹی پالیا کے عوام کو سمجھا کر انہیں مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
جس کے بعد دیپک کے گھر سے شمشان تک ریلی نکالنے کے لئے ڈی سی نے منظوری دی۔ ابتداء میں حکومت کی طرف سے 5لاکھ روپیوں کامعاوضہ منظور کیا گیا تھا ،اور دیپک کے غریب خاندان کو 50لاکھ روپیوں کے معاوضہ کی مانگ رکھی گئی تو ڈپٹی کمشنر اور وزیرا علیٰ کے فنڈ سے مزید 5لاکھ روپئے منظور کرتے ہوئے جملہ 10لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیاگیا ۔ ڈپٹی کمشنر نے گھروالوں کو یقین دلایا کہ اگر وقت پر معاوضہ نہیں ملا تو وہ راست اُن (ڈپٹی کمشنر) سے رابطہ کریں۔