منڈگوڈ:3/ نومبر (ایس اؤنیوز) صبح کاٹنے کے لئے کھیت میں جمع کردہ فصل سویرے ہوتے ہی بکھر جاتی ہے ، فصل کے ڈھیر پر سوکھے پیروں کے دھندلے نشان نظر آتے ہیں، کھیت پر دھاوا بولے ہاتھیوں کے جھنڈ پر غصہ ہوسکتے ہیں اور نہ نظروں کے سامنے برباد ہوئی فصل کو دیکھ کر اپنی خاموش رہ سکتےہیں۔ یہ ہے تعلقہ کے کسانوں کی مجبوری ، آسمان سے گرا ،کھجور میں اٹکا۔
ہرسال ہاتھیوں کا جھنڈ کروتی سے تعلقہ کے سرحد منڈگوڈ اور کاتور فاریسٹ علاقے میں داخل ہوتاہے۔ قریب تین ماہ تک لگاتار کھیتوں ، باغوں میں گھوم گھام کر نکل جانا معمول ہوگیا ہے۔ جس سال بارش کم ہوتی ہے ہاتھیوں کا جھنڈ وقت سے پہلے شہروں کا رخ کرتاہے۔ 8-10دن پہلے گنجاوتی ، مینلی ، گودال، کاتنلی وغیرہ دیہات میں ہاتھیوں کے جھنڈ کو دیکھا گیا ہے۔ ابھی تک 15کسانوں کے قریب 25-30ایکڑ زرعی زمین پر اگائی گئی فصل کو ہاتھیوں کے جھنڈ نے روند ڈالاہے۔
ہرسال نومبر کے مہینے میں ہاتھیوں کے دو تین جھنڈ منڈگوڈ اور کاتور علاقہ میں چل پھر کر ہانگل تک جاکر واپس ہونا عام ہوگیاہے۔ کاشت کے لئے تیار فصل کو کاٹنے کی تیاری میں تھے تو بارش ہوئی ۔ بادلوں کے ہٹنے کے انتظارمیں تھے تو فصل ہاتھیوں کا نوالہ بنی ۔نقصان اٹھائے کسان معاوضہ کے لئے درخواستیں دے رہے ہیں۔
حالات کے پیش نظر منڈگوڈ فاریسٹ آفیسر سریش نے بتایا کہ ہاتھیوں کو بھگانے کئے جانے والے پیشگی اقدامات کے متعلق فولڈر س کے ذریعے کسانوں میں بیداری پیدا کی جارہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی فاریسٹ محکمہ کی طرف سے ہاتھیوں کو ان کے ٹھکانےکی طرف بھگانے کی کوشش میں رہنے کی بات کہی۔