منڈگوڈ :6؍فروری (ایس اؤ نیوز )تعلقہ کے راماپور جنگل میں لاکھوں روپئے مالیت کے قیمتی ساگوان درختوں کو کاٹ کر سپلائی کئے جانے کے باوجود فوریسٹ محکمہ کے افسران کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کئے جانے پر اس معاملے میں خاموشی برتنے کو لے کر عوام سوال اُٹھارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوڈمبی نامی گرام پنچایت حدود کے راما پور مضاف کے قریب والے جنگل میں سیکڑوں ایکڑزمین پر پھیلے قیمتی ساگوان درختوں کو کٹا ہوا دیکھا گیا ہے۔ اب یہ قیمتی ساگوان درخت کاٹ کر دوسری جگہوں پر سپلائی کئے جانے کو لے کر عوام تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ صرف ایک دو ہفتوں میں یہ قیمتی اور بڑے بڑے ساگوان درختوں کو کاٹ کر لے جایا گیا ہے۔گھنے جنگل میں آدھا کلومیٹر مربع رقبہ پر کاٹےہوئے درختوں کے بچے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا گیا ہے۔ جنگل میں کٹے ہوئے ان درختوں کو لے کر عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا علاقے کے فوریسٹ افسران اور فوریسٹ کا عملہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں؟۔
کہا جاتا ہے کہ متعلقہ علاقے کے جنگل سے درختوں کو کاٹ کر سپلائی کرنا آسان نہیں ہے، یہاں گھومنےپھرنے ، آنے جانےکےلئے ہی کافی دقتیں ہیں، سرحدی علاقے پر فوریسٹ چک پوسٹ ہے ، رات کے اوقات میں فوریسٹ عملہ سکیورٹی ڈیوٹی پر ہوتاہے۔ اتنی ساری مشکلات ہونے پر بھی رات کے ہی اوقات میں لکڑیاں باہر کےتعلقہ جات کو سپلائی ہوتی ہیں تو شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فوریسٹ محکمہ کے افسران اور عملہ ، درخت چوروں کے ساتھ شامل ہوئے بغیر ممکن نہیں ہونے کی باتیں عوامی سطح پر گردش میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق درخت چوروں نے درختوں کو کاٹ کر وہیں پر اپنے من پسندسائز کے ٹکڑے بنا کر سپلائی کئے ہیں۔ کیونکہ وہیں پر درختوں کے کاٹنے والے بھوسے پائے گئے ہیں ۔ ذرائع کی مانیں تو جنگل سے کاٹی ہوئی لکڑیاں پاس کے ہانگل تعلقہ کو سپلائی کی جاتی ہیں ۔ محکمہ کے افسران کی شمولیت کے بغیر اتنا بڑی سپلائی ممکن نہیں ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا اتنا سب کچھ ہونےکے بعد فوریسٹ محکمہ کے اعلیٰ افسران راماپور جنگل کا معائنہ کرتےہوئے درخت چوروں کا پتہ لگائیں گے اورکیا لاپتہ لکڑیوں کو اپنی تحویل میں لیں گے ، کیا خاطیوں کےخلاف کارروائی ہوگی ؟ اس سلسلےمیں جب منڈگوڈ کے اے سی ایف روی ہولکوٹی سے پوچھا گیا تو انہوں نے وضاحت کرتےہوئےکہاکہ معاملےکو لےکر متعلقہ مقام کامعائنہ کرنے کے بعد درخت چوروں کو پتہ لگایا جائے گا۔ اور اگر ہمارے محکمہ کا عملہ اس میں شامل پایا گیا تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔