منڈگوڈ:2؍جولائی (نذیر تاڈپدری /ایس اؤ نیوز) شہر میں کتوں کی آوارہ گردی سے ایک طرف عوامی جگہوں پر خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے تو وہیں کتوں پر قد غن لگانے والی پٹن پنچایت اس سے لاتعلق رہتے ہوئے خاموش تماشائی بننے پر عوام سخت برہم بھی ہیں ۔
عوام کا کہنا ہے کہ شہر کے ہر وارڈ میں کتوں کا دربارہے ، چھوٹے بچوں کا گھر سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا ہے۔ بچہ وقت پر گھر نہ پہنچنے پر والدین شبہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے کو کتے نے کاٹ نہ لیا ہو۔ جہاں دیکھو وہاں 10-12کتوں کا گروہ نظر آئے گا۔ گروہ کی شکل میں کتوں کی آوارہ گردی سے ڈرکا ماحول ہے۔ کتے کب ، کس کو ، کہاں اور کیسے کاٹ لیں کہا نہیں جاسکتا، لوگ چلتے پھرتے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ رات کے اوقات میں کام سے گھر لوٹنا بھی ایک حوصلہ کا کام ہوگیا ہے۔ رات میں کتوں کے بھونکنے سے لوگوں کی نیند میں بھی خلل پڑ رہا ہے۔ کتوں کی بھرمار سے شہر میں کسی کے گھر میں مہمانوں کا آنا بھی مشکل ہوتاجارہاہے نئے چہرے نظر آتے ہی کتے حملہ کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔
عوام نے بتایا کہ کتوں کی آوارہ گردی کولے کر پنچایت میں کئی مرتبہ شکایتیں پیش کی جاچکی ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے عوام نے سخت نارا ضگی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پنچایت کے ذمہ داران جان کر بھی انجان بن رہے ہیں۔ عوام نے پنچایت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد سے جلد ان آوارہ کتوں کو پکڑنے اور عوام کو راحت دلانے کے لئے مناسب انتظامات کریں۔
اس سلسلے میں سید احمد اللہ شاہ مکاندار کا کہنا ہے کہ ہماری گلی میں کتوں سے بڑی مشکلات پیدا ہورہی ہیں، بچوں کو گھر سے باہر چھوڑنا ہی دشوار ہوگیا ہے۔ دوتین دن پہلےکتے نے میرے پوتے کا پیچھا کیا اللہ کا کرم کہ وہ بچ گیا۔ پٹن پنچایت ممبر محمد غوث مکاندار کا کہنا ہے کہ کتوں سے پیش آنے والے مسائل کو لے کر دو تین مرتبہ پنچایت کو شکایت دی ہے انہوں نے کارروائی کا تیقن دیا ہے۔ اس سلسلے میں پنچایت کے چیف آفیسر سنگن بسیا گدگی مٹھ نے بتایا کہ کتوں کی آوارہ گردی کے متعلق شکایات وصول ہوئی ہیں، اور کتوں کو ، افزائش نسل کو روکنے اورکتوں کے کاٹنے پر زہر نہ پھیلنے والے انجکشن دئے جارہے ہیں۔