ہائی کورٹ کو حکم دینے سے روکنے کی درخواست پر سپریم کورٹ کرے گا سماعت
نئی دہلی، یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ دہلی کی آپ حکومت کی اس اپیل پر پیر کو سماعت کے لیے آج تیار ہو گیا جس میں اس نے دہلی حکومت کے دائرہ اختیار سمیت مختلف مسائل پر ہائی کورٹ کو فیصلہ دینے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ دہلی حکومت کی اپیل پر سماعت کرے گی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستوں اور مرکز کے حقوق سے جڑے مسائل کو دیکھنا آئین کے تحت صرف سپریم کورٹ کے ہی دائرۂ اختیارمیں آتا ہے۔کیجریوال حکومت کی جانب سے پیش ہوئیں سینئر ایڈووکیٹ اندرا جے سنگھ نے بنچ کے سامنے فوری سماعت کے لیے معاملہ کا ذکر کیا۔بنچ میں جسٹس اے ایم کھان و کلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ بھی شامل ہیں۔سینئر ایڈووکیٹ نے کہاکہ تنازعہ کے سلسلے میں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر فیصلہ ہونے تک کوئی حکم دئیے جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ آئین کے آرٹیکل 239اے کے تحت قومی دارالحکومت دہلی سرکار(جی این سی ٹی ڈی)کے اختیارات کے ارد گرد مرکوز ہے۔آپ حکومت نے یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کام نہیں کرپارہی ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر فیصلوں کو ایل جی نجیب جنگ کے کہنے پر اس بنیاد پر مرکز کی طرف سے منسوخ کر دیا جاتا ہے یا تبدیل کر دیا جاتا ہے کہ دہلی مکمل ریاست نہیں ہے۔شروع میں بنچ اس پر فوری طور پر سماعت کرنے کو تیار نہیں تھی اور اس نے کہاکہ دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیجئے اور آپ(دہلی حکومت)اس عدالت کے سامنے تمام مسائل اٹھانے کو آزاد ہیں۔