بھٹکل:8/جولائی (ایس اؤنیوز)ملک بھر میں گوئے تحفظ کے نام پر معصوموں کا قتل کرنامذمت کے قابل ہونے کا خیال موظف لوک آیوکتہ منصف سنتوش ہیگڈے نے ظاہرکیا۔ وہ یہاں سنیچر کو تعلقہ ورکنگ جرنالسٹ اسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ ورکشاپ میں شرکت کرنے کے بعد اخبارنویسوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
سنتوش ہیگڈے نے کہاکہ گائے تحفظ کے نام پر ہونے والے تمام غیر انسانی حرکات قابل مذمت ہیں، حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کڑی کارروائی کریں، حکومتیں کسی بھی طرح کی دہشت گردی کو موقع نہ دیں ۔ دہشت گردی کے نام پر 8-10سال قید وبند کی صعوبتیں سہنے کے بعد نوجوان بے قصور رہا ہونے پر کون ذمہ دار ؟ نامی اخبارنویس کے سوال پر ہیگڈے نے کہاکہ ضمانت پر رہاہونے والوں کے متعلق وہ بے قصور ہونے کا خیال کرنا غلط ہے ، ہمارے ملک میں صرف 5فی صدمجرموں کو سزا ہوتی ہے ، 95فی صد مجرم عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا ہوتے ہیں،ہمارے پولس محکمہ میں پیشہ ورانہ مہار ت نہیں ہونا ہی اس کی اہم وجہ ہے ، عدلیہ کا مقصد کسی بے قصور کو سزا نہ ہو، لیکن ہمارے ملک میں انصاف ملنے میں کافی دیر ہوتی ہے ، فوری طورپر معاملات کو حل کرنے والے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اناہزارے کی ٹیم میں اپنی شناخت قائم کرنے والے سنتوش ہیگڈے مودی حکومت کے بعد جدوجہد سے کیوں دور ہونے پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ دراصل جو لوگ اقتدار پر قابض ہیں انہیں یہ سب نہیں چاہئے ۔ ہم اب بھی جن لوک پال جاری کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، ہمارے نظریہ میں کوئی فرق نہیں ہے، اقتدار پر قابض تمام پارٹیاں ایک ہی طرح کی سوچ رکھتی ہیں توپھر ہم سے کیسے ممکن ہے کہ کچھ کرسکیں ۔