بھٹکل:یکم مئی (ایس اؤنیوز) واٹس اپ اور فیس بک جیسی سوشیل نیٹ ورک کے ذریعے مذہبی منافرت، شخصی توہین وغیرہ کئے جانے کو لے کر اگر قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے بہتر اثرات ہونے اور غلط استعمال کرنے والوں کے لئے یہ جان کی آفت بن سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بھٹکل تعلقہ مرڈیشور میں پیش آیا ہے جہاں واٹس اپ پر وزیر اعظم کی تصویر مسخ کرکے فحش تصور چسپاں کئے جانے والے معاملے کو لے کر مرڈیشور پولس نے ’’ڈی بلسے بائز‘‘کے گروپ ایڈمن کرشنا ولد سنتما نائک (30)کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس گرفتاری نے واٹس اپ اور سوشیل نیٹ ورک پر من مانی ، مذہبی اشتعال انگیزی کرنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
گرفتار شدہ کرشنا نائک مرڈیشور کے بائیلور علاقے کے دوڈبلسے کا مکین ہے۔ کرشنا پیشہ کے لحاظ سے آٹوڈرائیور ہے۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرنےکے بعد عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ منگل کو معاملہ عدالت میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم مودی کی واٹس اپ توہین کو لے کر بائیلور دوڈ بلسے کے مکین آنند منجوناتھ نائک نے پولس سےشکایت کی تھی۔ ملزموں میں سے گنیش نائک کو بھی گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جو اس وقت ضمانت پر رہاہوچکا ہے۔ معاملہ کا ایک اور ملزم بال کرشنانائک لاپتہ ہے، پولس اس کی تلاش میں ہے، مرڈیشور پولس تھانے میں کیس در ج ہواہے، جانچ جاری ہے۔