بھٹکل:6؍ ستمبر(ایس اؤ نیوز) رکن پارلیمان، رکن اسمبلی کے اے سی روم میں بیٹھنے والے افسران مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں تو ملک مضبوط ومستحکم نہیں ہوتاہے بلکہ کلاس روم میں علم حاصل کرنےو الے، کھیل کے میدان میں کھیلنے والے طلبا مضبوط و مستحکم ہونے سے ملک مضبوط ومستحکم ہوتاہے۔ سابق وزیر اور ودھان سبھا میں حزب مخالف کے ڈپوٹی لیڈر یو ٹی قادر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
وہ یہاں آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن (آئیٹا) کرناٹک کی زیر اہتمام پیر کی رات منعقدہ ریاستی سطح کے آن لائن یوم اساتذہ کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یوٹی قادر نے کہاکہ اساتذہ معاشرہ کی تعمیر کرنےو الے ملک کی سب سے بڑی قوت ہیں، آج میں اس مقام پر فائز ہوں تو اس کے لئےمیرے والدین کےساتھ میرے اساتذہ بھی وجہ سبب ہیں۔ میں آج بھی یعنی یوم اساتذہ کے موقع پر اپنے اساتذہ کا احسان یاد کرتاہوں اور میری خواہش ہے کہ مستقبل میں آپ میں سے ہرایک ایک بہتر استا د کے طورپر ابھرے اور معاشرے کی تشکیل کریں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سبھی اساتذہ اپنے طلباکو بے حد پیا ر ومحبت سے تربیت کرتےہوئے انہیں ملک کے بہترین شہری بنائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہم میں سے ہرایک کا خواب ہے کہ ہماراملک عالمی سطح پر نمبر ون بنے۔ اے سی روم میں بیٹھنے والے افسران سے نہیں ہوگا بلکہ اس کو ممکن بنانا ہے تو ملک کے اساتذہ مضبوط ومستحکم ہوں۔ ہمارا ہرایک متعلم علم حاصل کرتےہوئے بہتر شہری بنتا ہے تو یہ ملک نمبرون اور مضبوط ومستحکم ہوگا۔ ملک میں امن ، پیار و محبت عام ہونا ہے تو اساتذہ کا فرض بنتاہے کہ وہ اپنے طلبا میں ان صفات کو پید اکریں اور طلبا میں نفرت کے جذبات پیدا نہ ہوں اس کی کوشش کریں۔ایک متعلم بہترین نمبرات سے کامیاب نہیں ہوتا ہے توکوئی بات نہیں البتہ اس کو ملک کا ایک بہترشہری بنانےکی اپیل کی۔ نفرت ، دشمنی جیسے الفاظ صرف طلبا کی زبان سے ہی نہیں بلکہ ان کے دل سے بھی نکال باہرکریں۔ اس موقع پر سابق وزیر نےاساتذہ کو تیقن دیا کہ وہ ہمیشہ اساتذہ کا ساتھ دینے کےلئے تیار ہیں اور ممکن حد تک ان کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔
مہمان خصوصی کے طورپر کوئمپو یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر بی پی ویربھدرپا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ ہمارا ملک اس وقت آزادی کا امرت مہوتسوا منا رہاہے اس موقع پر اگر ہم ملک کے حالات کا جائزہ لیں تو بہت دکھ اور افسوس ہوتاہے۔ معاشیات کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے میرے جیسے فرد کے لئے ملک کی غربت ، بھوک ، بے روزگاری ، ناخواندگی ، معاشی عدم مساوات، سماجی ناانصافی ، معاشی کمزوری جیسے کئی مسائل کے درمیان کیسےملک کی تعمیر کریں سوال پیدا ہوتاہے۔ ملک کی اعلیٰ تعلیم مضبوط ہوگی تو ملک معاشی سطح پر مضبوط ہوگا اور 5ٹریلین ڈالر کی معیشت ہوگی۔ 75برسوں کے بعد بھی ہم تحقیق و انکشاف کے میدان میں کمزور ہیں، چیلنجس کا مقابلہ ممکن نہیں ہوپارہاہے۔ جب ہم کہتےہیں کہ علم ہی طاقت ہے ، علم کی حکومت ہے تو پھر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ تعلیم کے ذریعے ایک مضبوط معاشرہ کی تعمیر ممکن کیوں نہیں ہوپارہی ہے۔
مرکزی تعلیمات بورڈ کے ڈائرکٹر ، ماہر تعلیم سید تنویر احمد نے تعلیمی پالیسی ، تعلیمی مسائل پر خصوصی روشنی ڈالی ۔ آئیٹا کے قومی صدر عبدالرحیم شیخ نے پروگرام کی صدارت کی۔ پروگرام کا آغاز غطریف ردا مانوی کی تلاوت قرآن سےہوا۔ ریاستی صدر محمد رضا مانوی نے استقبال کرتےہوئے افتتاحی کلمات پیش کئے تو ریاستی سکریٹری محمد یسین بکبا نے شکریہ کلمات ادا کئے۔ رائچور زون کے سکریٹری سلیم پاشاہ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔