ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل : بخار کی دوائی لیتےلیتےہی موت کا شکار ہورہےہیں نوجوان :اترکنڑا ضلع میں پچھلے دومہینوں میں 60نوجوان ہلاک

بھٹکل : بخار کی دوائی لیتےلیتےہی موت کا شکار ہورہےہیں نوجوان :اترکنڑا ضلع میں پچھلے دومہینوں میں 60نوجوان ہلاک

Mon, 24 May 2021 17:58:51    S.O. News Service

بھٹکل 24؍ مئی (ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہاہے، دن بدن مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ ابتداء میں  شہری سطح پر پھیلا کورونا وائرس اب  آہستہ آہستہ دیہی علاقوں میں پھیل کر دیہی عوام کے لئے وبال جان بنتا جارہاہے۔ اترکنڑا ضلع میں وائرس کی دوسری لہر نے کہرام برپا کر دیا ہے، عوام پوری طرح خوف ودہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں، اترکنڑا ضلع  میں پچھلے دو مہینوں میں 250سے زائد لوگ  وباء کا شکار ہو چکے ہیں تو ان میں 60سے زائد نوجوان ہلاک ہونے کی بات کا  بھی انکشاف ہوا ہے ۔

کنڑا  اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کی دوسری لہر میں زیادہ تر نوجوان  شکار ہورہے ہیں، جب کہ پہلی لہر میں زیادہ تر بزرگ اور معمر لوگ  فوت  ہورہے تھے۔  ضلع میں اب تک60سے زائد نوجوان ہلاک ہونے پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں سےکہاجارہاہے کہ وہ چوکنا اور بیدار رہیں۔ کیونکہ اکثر نوجوان اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں اور یہی وجہ  ہےکہ  بخار ہونے پر اسے ہلکے میں لیا جاتا ہے اور  گھر  پر ہی دوائی لے کر  آخری لمحات میں جب بخار  کی شدت  زیادہ ہوجاتی ہے  تو اسپتال کا رخ کرتےہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ جب حد سے زیادہ بری حالت میں اسپتال پہنچتےہیں تو بچنے کی اُمید بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔

اخبار کی رپورٹ پر بھروسہ کریں تو   نوجوانوں  کی رپورٹ کورونا  پوزیٹیو آنے کے باوجود بھی اکثر نوجوان  لاپرواہی برتتے  ہیں اور پتہ چلا ہے کہ  بیماری کی حالت میں بھی  وہ  آکسیجن  پلس کی جانچ  نہیں کرتے ۔ دوسری اہم  وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہےکہ ابھی تک اکثر  نوجوان  کووڈ  کا ٹیکہ لگانے کے لئے تیار نہیں  ہیں۔

اعداد وشمارات   پر یقین کریں تو  زیادہ تر تعلیم یافتہ اور برسر روزگار نوجوان ہی کورونا کو لےکر لاپرواہی اور غفلت برت رہے ہیں۔ اکثر لوگ گھروں سے ہی کام کرنے  (  ورک فروم ہوم)  کی وجہ سے  شہروں سے نکل کر اپنے گاوں اورقصبوں میں  پہنچ گئے ہیں۔ ایسے گھر پہنچنے والے زیادہ تر نوجوان بخار میں مبتلا ہونے کے باوجود  سنجیدہ نہیں ہیں اورصرف میڈیکل دکانوں سے دوائی لےرہےہیں اور آخری مرحلےمیں جب سانس لینےمیں تکلیف ہونےلگتی ہے تو اسپتال جاتے جاتے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

پتہ چلا ہے کہ فارمیسی کی دکان والے  اور دیہی ڈاکٹر بھی  بخار سمجھ کر  دوائیاں دیتے ہیں  جس سے بخار  میں کمی آنے کے بجائے  بخار میں تیزی آجاتی ہے ، حالانکہ بخار  ، سردی اور کھانسی  کورونا کی اہم  علامتیں ہیں اور اس کا  تجربہ کار ڈاکٹروں کے ذریعے علاج کرانا نہایت ضروری ہے ،  اگر ان علامتوں کے پائے جانے کے بعد اس کا صحیح ڈھنگ سے علاج نہیں کیا جاتا تو پھر یہی  لاپروہی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ  کے مطابق 17مارچ سے 19مئی کے درمیان یعنی دو ماہ  کی مدت میں  60 نوجوانوں کے مرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ جبکہ ریاست میں کووڈ سے مرنے والوں کی کل شرح 0.31 فیصد ہے ۔ جب کہ پچھلے دومہینوں میں یہ شرح 0.29 فیصد ہے۔

کووڈ کی بڑھتی شرح اور اسپتالوں کا رُخ کرنے میں خوف محسوس کرنے والوں اور  گھروں پر ہی بخار اور کھانسی وغیرہ کا علاج کرانے  والوں کے لئے   اچھی بات یہ ہے کہ کم ازکم بھٹکل کی سطح پر   تنظیم کی موبائل کلینک وین   گھر گھر پہنچ کر لوگوں کی جانچ کررہی ہے  اور لوگوں کا مفت  علاج   کیا جارہا ہے ، جس کے نتیجے میں   بھٹکل کی سطح پر کم ازکم عوام کو  اس موبائل کلینک کا بھرپور فائدہ  اُٹھانا چاہئے  اور  اپنے علاج معالجہ  کی طرف  خصوصی  توجہ دینی چاہئے۔

آٹو ڈرائیوروں کے لئے خطرہ :ضلع میں فی الحال ضروری مواقع پر عوام آٹورکشا کا استعمال کررہےہیں۔ آٹو میں سفر کرنے کے دوران  کس کو کورونا ہے پتہ نہیں چلتا۔ مگر بے چارے آٹوڈرائیور  اپنے پیشے اور کمائی کے لئے ہر کسی کو اپنے رکشہ پر بٹھاکر لے جاتے ہیں۔ ان حالات میں آٹوڈرائیوروں کےلئے خطرہ ہوسکتاہے۔ اس سلسلےمیں اترکنڑا ضلع آٹو رکشا مالکان اور ڈرائیور سنگھ کے صدر دلیپ آرگیکر نے آٹو ڈرائیوروں سےاپیل کی ہے کہ وہ گھر جاتےہی نہالیا کریں۔ پیشگی طورپر جتنا ہوسکے اتنے حفاظتی اقدامات کریں تاکہ وہ کسی بھی خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

ضلع میں کہاں کہاں کتنےنوجوانوں کی اموات ہوئی ہیں:کاروار میں 12،سرسی میں 9،کمٹہ میں 8،انکولہ میں 7،سداپور میں 6،منڈگوڈ میں 5،ہوناور میں 5،ہلیال میں 4،ڈانڈیلی میں 3،بھٹکل میں 3،جوئیڈا میں 2نوجوان کووڈ سے ہلاک ہوئے ہیں یہاں نوجوانوں سےمراد 40سال کی عمر سے کم والی عمر کے ہیں۔  (یاد رہے کہ    بھٹکل یا ضلع کے دوسرے علاقوں کے کئی لوگ مینگلور اسپتال میں  بھی انتقال کرچکے ہیں، جس کی  تعداد  اس رپورٹ میں درج  نہیں ہے)

ریاست کرناٹک میں 2500نوجوان ہلاک :پچھلے دومہینوں میں ریاست  کرناٹک میں  قریب 2500نوجوان کورونا سے ہلاک ہو چکے  ہیں۔جبکہ  ہر روز ریاست میں  25 ہزار سے زائد لوگوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آرہی ہے اور ہر روز 600 سے زائد لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔23 مئی  تک ریاست کرناٹک میں 25 ہزار لوگ کورونا سے   جنگ ہار کر موت کا شکار ہوچکے ہیں۔


Share: