بھٹکل:27؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) اُڈپی ضلع کے ملپے بیچ پر واقع ریاست کے پہلے ’سی واک ‘ کو نمونہ بنا کر بھٹکل تعلقہ کے تینگن گنڈی ماہی گیر بندرگاہ کے قریب والے بریک واٹر پر ’سی واک ‘ کی تعمیر کےلئےتیار کردہ منصوبے میں ترمیم کرتےہوئے 2 کروڑ روپیوں کی لاگت سے سی واک منصوبہ تشکیل دیاگیا ہے۔
اترکنڑا ضلع کے سابق ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن نے ضلع میں سیاحت کو فروغ دینے کےلئے کئی خواب سجائے تھے ان میں یہ سی واک بھی شامل تھا۔ اب ضلع انتظامیہ نے ضلع میں سیاحت کو ترقی و فروغ دینےکی خاطر متعلقہ منصوبے کو جاری کررہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کےلئے ضلع پنچایت 50لاکھ روپئے دے گی تو بقیہ ڈیڑھ کروڑروپئے محکمہ سیاحت کی جانب سے میگا کوسٹل پلان کے زمرےسے ادا کئےجائیں گے۔ سی واک کا منصوبہ کرناٹکا رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کی طرف سے تعمیر کیاجائےگا۔ سی واک منصوبے کے اصل روح رواں سابق ڈی سی ملئی مہیلن اور ان کے ساتھ ضلع پنچایت کے سی ای اؤ پریانگا ایم نے متعلقہ منصوبے کو تشکیل دیا تھا۔
جب یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گاتو یہا ں موجود بریک واٹر پر قریب آدھا کلومیٹر دورتک سمندر کے اوپر چلتے ہوئے جا کر غروب آفتاب کا منظر، نیترانی جزیرے کے پہاڑ اور مرڈیشور کی بڑی مورتی کو دیکھ سکیں گے۔ ملپے کی طرح یہاں سی واک تعمیر ہوگاتو یہاں فوڈ کورٹ، سلیفی پوائنٹ، بجلی قمقموں کانظام ، بیٹھنے کےلئے کرسیوں کاانتظام ہوگا۔ بریک واٹر کی سیاحت کرنے والے سیاحوں کو انٹری اورایگزٹ پوائنٹ ہونگے۔ بہت ہی کم فیس ادا کرتےہوئے سیاح بریک واٹر پر سی واک کرسکیں گے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے بچے بھی چلیں گے جس کے لئے بہتر حفاظتی انتظام کیا جائے گا۔ یہاں سبھی سہولیات محکمہ سیاحت کی جانب سے فروغ دی جائیں گی۔ تینگن گنڈی میں واقع بریک واٹر قریب 730میٹر لمبا اور8فٹ کی چوڑائی والا سی سی روڈ ہے سیاحوں کےلئے یہ بہت ہی محفوظ بتایا گیا ہے۔
ڈی سی کی اہلیہ نے بنایا نقشہ : اترکنڑا ضلع میں سیاحت کو فروغ دینے کےلئے بہت ہی خاموشی کے ساتھ منصوبے پر عمل پیرا سابق ڈی سی ملئی مہیلن کے ساتھ ان کی اہلیہ اشوینی بھی ساتھ دے رہی تھیں۔ بھٹکل کےتینگن گنڈی میں تعمیر کئےجانے والےمجوزہ سی واک کا نقشہ ڈی سی کی اہلیہ اشوینی نے ہی تیار کئے جانےکی جانکاری ملی ہے۔
اشوینی خود آرکیٹک انجنیئرہیں انہوں نے سی واک کا منصوبہ دیکھا تو اس کےلئے ایک خوبصورت نقشہ تیار کرتےہوئے تھری ڈی وڈیو بنا کر دیاہے۔ اگر یہی نقشہ کوئی اور انجنیئر تھری ڈی وڈیو میں تیارکرتاتو بتایاگیا ہےکہ اس کی فیس لاکھوں میں ہوتی۔ لیکن ضلع سےتبادلہ ہوئے ڈی سی کی اہلیہ نے اس نقشہ کی کوئی فیس نہیں لی ہے صرف ضلع سےمحبت میں انہوں نےیہ نقشہ بنا کر دیا ہے۔