بھٹکل:09/ستمبر (ایس اؤنیوز)نچل مکی شری وینکٹ رمن مندر ہال میں سنچر کو منعقدہ تعلقہ کی بھٹکل زرعی اور دیہی ترقی کوآپریٹیو بینک کے سالانہ جلسہ عام میں ممبران اورانتظامیہ کے درمیان توتو میں میں اور ہنگامہ خیزی ہونے کی اطلاعا ت موصول ہوئی ہیں۔
میٹنگ کے دوران بینک کے شئیر ہولڈر وں کی طرف سے ماستپا نائک، گنپتی نائک اور پون نائک نے بینک انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ بینک عملے کی تقرری میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی ، تقرری کے دوران رشوت خوری ، نجی شخص کے ذریعے رشوت لے کر عملہ کی تقرر ی کی گئی ہے۔ تقرر ی کے بعد چند عملے کو ملازمت سے نکالاگیاہے اور جن کو نوکری سے نکالا گیا ہے ان کی رقم بھی نہیں لوٹائی گئی ہے۔ اگر رشوت خوری نہیں ہوئی ہے تو پھر عملے کا تقرر صرف چند ماہ کے لئے کیوں کیا گیا ،پھر اس کے بعد انہیں کیوں نکالاگیا اس جیسے سوالات کے ذریعے ممبران نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھ لیا اور مطالبہ کیا کہ اصول وضوابط کے مطابق عملے کی تقرری کی جائے۔
مشتعل ممبران کی شکایات پر بینک کے صدر دیوی داس نائک نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو ممبران مزید مشتعل ہوکر ڈائس کے سامنے پہنچ گئے اور میز وغیرہ پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنا سخت اعتراض جتایا۔ حالات کشیدگی کی طرف اشارہ کرنے لگے تو پولس نے مداخلت کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا ۔ میٹنگ میں کاسکارڈ بینک کے نائب صدر ایشورنائک، بھٹکل پی ایل ڈی بینک نائب صدر مہیش نائک، مادیو نائک، وٹھل نائک، سریش نائک وغیرہ موجود تھے۔ جنرل مینجر واسو نائک نے تمام کا استقبال کیا تھا۔