بھٹکل یکم نومبر(ایس او نیوز) کرناٹکا کاصرف کنڑازبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ کنڑیگاس کے درمیان مساوات حاصل کرنےکے مقصد کو لے کر انضمام ہوا تھا۔ ان باتوں کا اظہار خیال بھٹکل رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے کیا۔
وہ یہاں تعلقہ انتظامیہ کے زیر اہتمام تعلقہ اسٹڈیم عرف وائی ایم ایس اے میدان میں منعقدہ کنڑا راجیہ اُتسوا پروگرام کی صدارت کرتےہوئےخطاب کررہے تھے۔ رکن اسمبلی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ حکومت کرناٹکا بھو کوں کی آواز پر کان دھرنے کا کام کیا ہے، انیا بھاگیہ، اکشھیربھاگیہ، شو بھاگیہ جیسے منصوبہ جات کے ذریعے ریاست میں مساوات پیدا کرنےکی کوشش کی ہے ۔ اس ترقی یافتہ زمانے میں بھی ہزاروں لوگ بے گھر ہیں، کئی لوگوں کے گھروں میں بجلی نہیں ہے،ایسے بے سہارا لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دینے کا کام ہونا چاہئے۔ کنڑا ہماری مادری زبان ہے، کسی سطح پر اس سے غفلت نہیں برتی جائے گی، زمانےکے تقاضوں کے تحت کئی لوگوں نے انگریزی کا رخ کیا ہے، البتہ کنڑا میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی مختلف میدانوں میں ان کی بہترین کارکردگی کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی نہ ہونےکی طرف خصوصی توجہ دینے کی بات کہی۔
کنڑا ساہتیہ پریشد بھٹکل کے صدر گنگادھر نائک نے اس موقع پر خصوصی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹکا کے انضمام کی جدوجہد ، جنگ آزادی کے مساوی اہمیت رکھتی ہے۔ گلوبلائزیشن اس وقت ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے ، جس کا سامنا ہمت سے کرنا ضروری ہے۔ ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، بلدیہ صدر محمد صادق مٹا، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن محمد قیصر محتشم، جالی پٹن پنچایت صدر عبدالرحیم شیخ، نائب صدر لکشمی نائک، تعلقہ پنچایت نائب صدر رادھا اشوک وئیدیا، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن وشنو دیواڑیگا، ضلع پنچایت ممبر سندھو بھاسکرنائک، تعلقہ پنچایت ممبر جئے لکشمی گونڈا، مہا بلیشورنائک، میناکشی جٹپا نائک، مختلف بورڈ کے ڈائرکٹرس، تعلقہ پنچایت افسر سی ٹی نائک، ٹاپ ایمرجنسی کے نثار احمد رکن الدین وغیرہ موجود تھے۔ تحصیلدار وی این باڈکر نے استقبال کیا، بی ای اؤ وینکٹیش پٹگار نے شکریہ اداکیا۔ استاد شری دھر شیٹھ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ اس کے بعد مختلف اسکولو ں کے طلبا نے ثقافتی پروگرام پیش کئے۔ اس سے قبل نیو انگلش اسکول سے کنڑا دیوی کی پوجا کرنےکے بعد جلوس کے ذریعے میدان پہنچے ۔