بھٹکل:15/ڈسمبر (ایس او نیوز) بھٹکل ودھان سبھا حلقہ میں جاری ریت کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج جمعرات کو بی جے پی نے راستہ روکو احتجاج کیا اور بھٹکل کے رکن اسمبلی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ریلی بھی نکالی۔ بعد میں پولس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو اُنہیں منتشر کردیا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ بھٹکل میں ریت کے مسئلے کے لئے مقامی رکن اسمبلی اور ریاستی حکومت راست ذمہ دارہے۔
جمعرات کی صبح سرکٹ ہاؤس کے صحن میں جمع ہونے کے بعد سیکڑوں بی جے پی کارکنان نے پہلے ریلی نکالی پھر پی ایل ڈی بینک کے روبرو قومی شاہراہ کے درمیا ن جمع ہوکر وہیں دھرنا دے کر بیٹھ گئے، جس سے نیشنل ہائی وے پر گذرنے والی سواریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے ضلعی نائب صدر گوند نائک نے کہاکہ گذشتہ کئی مہینوں سے بھٹکل اور ہوناور تعلقہ میں ریت کی قلت اور سپلائی کا معاملہ سنگین رُخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ سرکاری سطح پر مسئلہ کا حل نکالنےکے بجائے مقامی رکن اسمبلی بلا وجہ بی جے پی پر الزام لگارہے ہیں۔ اگر رکن اسمبلی ریت مسئلہ کو حل کرنے کا اراد ہ رکھتے ہیں تو ہم ان کے گھر پہنچ کر ان سے بات چیت کے لئے بھی تیار ہیں۔ بھٹکل بی جے پی کے مقامی صدر راجیش نائک نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ بائیلور علاقہ میں غیر قانونی طورپر ریت سپلائی ہورہی ہے۔ہمیں یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ رکن اسمبلی جہاں تہاں کہہ رہے ہیں کہ اگر بی جے پی تعاون کرتی ہے تو مزدوروں کو ریت سپلائی کی جائے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ رکن اسمبلی واضح کریں کہ تعاون کا کیا مطلب ہے، پھر آگے بتایا کہ بی جے پی کبھی غیر قانونی کاموں میں تعاون نہیں کرے گی۔ حکومت خود ہی مناسب ریت پالیسی جاری کرتے ہوئے عوام کے اس مسئلے کو حل کریں۔
نیشنل ہائی وے کو بلاک کرنے پر بعد میں ڈی وائی ایس پی شیو کمار اورسی پی آئی سریش نایک نے احتجاجیوں کو پولس تحویل میں لینے کی کوشش کی مگراحتجاجی سواری پر سوار ہونے کے بعد دوبارہ سواری سے نیچے اُتر کراحتجاج کرنا شروع کردیا۔ سرکار اور رکن اسمبلی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس کے بعد سی پی آئی سریش نایک نے اپنے عملے کے ساتھ احتجاجیوں کو منشترکیا۔ احتجاجیوں کو ڈھیل ملتے ہی احتجاجی مشتعل ہوکر تحصیلدار دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی۔ تحصیلدار دفتر کے صحن میں گھسنے کی کوشش کی تو انہیں روکا گیا۔ اس کے بعد تحصیلدار وی این باڈکر خود احتجاجیوں کے پاس پہنچ کر شکایتوں کو سماعت کرتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی لیڈران نے کہا کہ عوامی مسائل کو لے کر حزب مخالف کا احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ 25ڈسمبر تک مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا تو احتجاج میں مزید سختی لائی جائے گی۔۔ کرشنا نائک آسارکیری ، سنیل بی نائک، ایشور این نائک، بی جے پی خواتین شعبہ کی صدر کاویری دیواڑیگا، ضلع پنچایت ممبر ناگما ماستی گونڈ، تعلقہ پنچایت ممبر مالتی موہن دیواڑیگا، دینیش نائک، روی نائک جالی، سنتوش نائک، منجوناتھ نائک، ایشور دوڈمنے ، لکشمن نائک وغیرہ احتجاج میں شامل تھے۔ اس موقع پر بی جے پی لیڈران نے کہاکہ ریت مسئلہ کو اتنا عرصہ گذرنے کے بعد بھی حل نہ کرنے کے پیچھے مقامی رکن اسمبلی کا ہاتھ ہے اور حکومت اس کے لئے ذمہ دار ہے۔
اس سلسلے میں مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ خود بی جے پی کے ایکرکن نے عدالت میں عرضی داخل کی ہے، اسی کی عرضی کے مطابق عدالت نے ریت سپلائی پر روک لگائی ہے، یہاں بی جے پی سیاست کے لئے احتجاج کررہی ہے، عوام کا رخ غلط راہ پر لے جانے کا کام بی جے پی خود کررہی ہے بہتر ہے وہ اس سے باز آئیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی ہونےکے ناطے ریت مسئلہ کو حل کرنے کے لئے وہ ہر طرح کی کوشش کرنے تیار ہیں ۔ وہیں مقامی تحصیلدار وی این باڈکر نےکہا کہ ریت مسئلہ کے لئے کاروار کے محکمہ کان کنی افسران سے موبائیل کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے ، 20ڈسمبر کو بنگلورو میں اعلیٰ افسران کی میٹنگ طئے ہے ، انہوں نے بتایا کہ ان کا کام سرکاری فیصلوں کو نافذ کرنا ہے۔