بھٹکل:5؍ جنوری (ایس اؤ نیوز)تعلقہ بھر میں پتھر کے ساتھ ریت مافیا بھی بہت سرگرم ہے ، پورے سمندر کو ہضم کرنےکے درپے ہے، نیچے سے لےکر اوپر تک افسرا ن اپنی جیب بھرتی کرکے نیند کا ناٹک کرنے کا عوامی سطح پر الزام لگایاجارہاہے۔
تعلقہ کے منڈلی، نستار، بیلکے ، جالی سمندر کناروں پر ریت کو تھیلوں میں بھر کر سپلائی کرنےو الے ایک جتھا جال بچھا کر کام کررہا ہے۔ شام ہوتے ہی متعلقہ علاقوں کی عورتوں کو تنخواہ دے کر تھیلوں میں ریت بھر کر مخصوص جگہوں پر جمع رکھا جاتاہے۔ رات 12بجے کے بعد رکشا ،منی لاری کے ذریعے بھٹکل شہر میں جہاں جہاں مانگ ہے وہاں سپلائی کیاجاتاہے۔ مقامی چند نوجوانوں کو متعینہ مقامات پر نگرانی کے لئے تعین کئے جانےکی افواہیں بھی گردش میں ہیں۔
بے روزگاری اور معاشی مشکلات و تنگی سےپریشان حال نوجوانوں کو بڑی آسانی کے ساتھ ان سے غیرقانونی دھندے کرائے جارہےہیں۔ منی لاری ، رکشا کے علاوہ موٹر بائک کے ذریعے بھی بھٹکل شہر میں ریت کی ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، پھر اس کے بعد جہاں مانگ ہوتی ہے وہاں لاری ، ٹپر کے ذریعے بھیجی جاتی ہے چاہے ہو کتنی بھی دور کیوں نہ ہو۔ کسی بھی افسر کو جانکاری دینے کے باوجود غیر قانونی ریت سپلائی میں کمی نہیں ہونے سے مقامی لوگ کئی شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔
ذرائع کی مانیں تو جب کبھی کسی افسر کو غیر قانونی ریت سپلائی کے متعلق شکایت کی جاتی ہے تو متعلقہ غیر قانونی ریت سپلائی کی تھوڑی تفصیل دینے کو کہتے ہیں ۔ اس کے بعد افسران غیر قانونی ریت سپلائی کرنےو الوں کو چوکنا کرتے ہیں کہ متعلقہ فرد کے متعلق تھوڑا ہوشیار رہیں۔کبھی کبھی کسی ایک رکشاپر کیس درج کرکے جرمانہ لے کر چھوڑ دیاجاتا ہے اس طرح بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے مخالفین کو خاموش کیا جارہا ہے۔ عوام نے شبہ جتایا ہے کہ کہیں افسران نے غیرقانونی طورپر اپنی کمائی کے لئے یہی راستہ تو نہیں اپنایا ہے؟۔ضلع ڈی سی کی طرف سے غیرقانونی ریت سپلائی کے متعلق کارروائی کرنےکہا جاتاہے تومقامی سطح پر کوئی کارروائی نہیں ہونے سے شک اور بھی گہرا ہوتاجارہاہے۔ آئندہ دنوں میں ریت مافیا مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنے کا عوام نے خدشہ ظاہر کیاہے۔