بنگلورو:28؍ فروری (ایس اؤ نیوز ) بی جے پی کے مضبوط رہنما بی ایس یڈیورپا نے پارٹی کے ریاستی صدر نلین کمار کٹیل کے 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات کو ٹیپو بمقابلہ -ساورکر طور پرہونے والے بیان سے سخت اختلاف ظاہر کیا ہے۔
ایک طرف بی جےپی اور اس کے صدر نلین کمار کٹیل آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کو ’’ٹیپو سلطان اور ساورکر کے درمیان جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے پورے انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہ رہےہیں تو وہیں بی جے پی کے مضبوط رہنما، سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی پارلیمنٹرین کمیٹی کے ممبر بی ایس یڈیورپا نے پارٹی صدر نلین کمار کٹیل کے بیان سے صریح اختلاف کرتےہوئے کہاہےکہ اُن کی باتوں کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔
این ڈی ٹی وی کےپوچھے گئے ایک سوال پر کہ بی جے پی کا نقطہ نظر ریاست کی ترقی سے بدل کر ٹیپو اور ساورکر جیسے مسائل پر مرکوز ہورہا ہے، بی جے پی لیڈر نے بتایا: "میں اُن (کٹیل) سے اتفاق نہیں کرتا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی بی جے پی سے لڑنے کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ لیکن مجھے مودی اور امیت شاہ کی وجہ سے اس بات کا پورا بھروسہ ہے کہ ہمیں قطعی اکثریت ملنے والی ہے اور ہمیں کانگریس یا جے ڈی (ایس) سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔"
یہ پوچھے جانے پر کہ بی جے پی کو لوگ کس بنیاد پر ووٹ دیں گے، یڈی یورپا نے کہا کہ آنے والے انتخابات کا منتر یہی ہے کہ "سخت محنت کریں" انہوں نے ریاست میں بی جے پی حکومت کی طرف سے دی جانے والی مقبول اسکیموں کے بارے میں بھی پیغام کو گھر گھر پہنچانا ضروری قرار دیا۔