اُڈپی :۲۰/تمبر (ایس او نیوز) صنعت کار بھاسکر شٹی قتل معاملے میں اور ایک کلیدی ملزم نونیت شٹی کو 2دنوں کے لئے سی آئی ڈی پولس کی تحویل میں دیا گیا ہے ، بقیہ ملزمان راجیشوری شٹی ، شری نواس بھٹ اور راگھویندرا کو 14دنوں تک عدالتی تحویل میں دینے کا اُڈپی عدالت نے حکم جاری کیا۔
6ستمبرسےچاروں ملزمان عدالتی تحویل میں تھے ان کی مدت ختم ہونے کے بعد پولس نے پیر کی صبح انہیں اُڈپی کے ایڈیشنل سول عدالت کے ایڈیشنل چیف مجسٹریٹ راجیش کرنم کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سی اؤڈی جانچ آفیسر ڈی وائی ایس پی چندر شیکھر نے ملزم نونیت شٹی کی 6دنوں تک پولس کسٹڈی مانگتے ہوئے پراسی کیوٹر پروین کمار کے ذریعے عدالت سے درخواست کی تھی ۔ بھاسکر شٹی قتل کے لئے استعمال کئے گئے لوہے کی سلاخیں وغیرہ کو ضبط کرنے کےلئے نونیت کو پولس تحویل میں دینے کی اپیل کی تھی ۔ پولس تحویل پر اعتراض جتاتے ہوئے ملزمان کے وکیل ارون بنگیر بیلووائی نے سپریم کورٹ اور دیگرہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ گرفتارکرنے کے بعد صرف 15دنوں کے اندر ہی پولس تحویل کا دعویٰ کرسکتے ہیں، اس کے بعد ممکن نہین ہونے کی بات عدالت کے سامنے پیش کی۔وکیل استغاثہ ، مدعی ٰعلیہ کے بیانات کو سماعت کرنے کے بعد منصف راجیش کرنم نے ملزم نونیت شٹی کو دو دنوں کے لئے پولس تحویل میں دینے کا حکم جاری کیا۔ اس دوران راجیشوری بھٹ، شری نواس بھٹ ، راگھویندر کی عدالتی تحویل 3اکتوبر تک توسیع کئے جانے کا حکم جاری کیا۔
اسی طرح قتل معاملے کے ایک اور ملزم نرنجن بھٹ کو بھی اسی عدالت نے 2دنوں تک سی آئی ڈی پولس کسٹڈی میں دئیےجانے کا حکم صادر کیا ہے۔ پولس تحویل میں اعتراض جتاتے ہوئے ملزموں کے وکیل وکرم ہیگڈے نے باربار پولس کسٹڈی نہیں دینے کی درخواست کی تو سی آئی ڈی پولس نے بتایا کہ نونیت شٹی کے ساتھ نرنجن بھٹ کی پوچھ تاچھ کرنی ضروری ہے، اس لئےپولس تحویل میں دیا جائے۔ منصف راجیش کرنم نے دودنوں کی پولس تحویل کومنظوری دی۔
ملزموں کو بس کے ذریعے لےجانے پر اعترا ض : منگلورو جیل سے اُڈپی عدالت تک ملزموں کو بس کے ذریعے لانے اور لے جانے پر مدعیٰ علیہ کے وکیل ارون بنگیر نے عدالت میں منصف کے سامنے اعتراض پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے ، ملزموں کو بس کے ذریعے لانا ٹھیک نہیں ہے، جس سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتاہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک ملزموں کے انسانی حقوق پامال نہ ہوں ۔ منصف راجیش کرنم نے اعتراض کو قبول کرتے ہوئے پولس کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سے ملزموں کو پولس سواری میں سکیورٹی کے ذریعے انہیں لایا کریں۔