اُڈپی:31؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) علاقائی سطح پر پینے کا پانی سپلائی کئے جانے کے باوجود شہر کے بعض مقامات پر پینے کےپانی کا مسئلہ پیداہونےکے متعلق اُڈپی میونسپالٹی جنرل میٹنگ میں میونسپالٹی ممبران نےسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مناسب انتظامات کرنے کی تاکید کی ہے۔
میونسپالٹی صدر سومیترا آر نایک کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں ممبر گریش انچن نے پینے کے پانی کی سپلائی کا مسئلہ پیش کرتےہوئے کہاکہ میونسپالٹی کی طرف سے علاقائی طورپر پینےکاپانی سپلائی تو کیا جارہاہے مگر 35وارڈس ایسے ہیں جہاں کئی گھروں کو پانی سپلائی نہیں ہورہاہے۔ اس تعلق سے فوری توجہ دینے ضرورت ہے۔ امرتا کرشنامورتی، رمیش کانچن ، وجئے لکشمی اور سلینا کرکڈ نے ان کی پرزور حمایت کی۔
میٹنگ میں موجود معاون انجنئیر موہن راج نے بتایا کہ بجے میں موجود پرانے پمپ کی قوت میں کمی ہوئی ہے، اگلے 15دنوں میں متعلقہ پمپ بدل کر نیا پمپ نصب کئے جائے گا۔ صدر مجلس نے کہاکہ اگلی میٹنگ میں اس تعلق سے بحث کی جائے گی۔
بجے ڈیم کا پانی رسنے کے متعلق اعتراض پیش کرتےہوئے موہن راج نے کہاکہ سورنا ندی میں آج بھی اندرونی بہاؤ ہونے کی وجہ سے شیرور ڈیم میں پانی جمع ہوکر باہر بہہ رہاہے، وہاں سے پانی بجے ڈیم پہنچتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ڈیم میں پانی کارساؤ نہیں ہو رہا ہے۔ رکن اسمبلی رگھو پتی بھٹ نےکہاکہ اس سے قبل ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ گرام پنچایتوں کو 6گھنٹے پانی سپلائی کریں گے۔ ان کو جواب دیتے ہوئے موہن راج نے بتایا کہ بدھ کے دن سے پانی سپلائی کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
دلالوں اور عملے کا ربط : اُڈپی میونسپالٹی کو اگر کوئی عام فرد اپنے کام کے لئے آتاہے تو اس کا کام نہیں ہوپاتا۔ وہی کام کسی ایجنٹ یا دلال کے ذریعے آتاہے تو فوری طورپر ہوجاتاہے۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتاہے کہ میونسپالٹی کے عملے اور دلالوں کے درمیان لنک ہے۔ اس سلسلے میں برسراقتدار پارٹی کے ممبر پربھا کر پجاری نے سوال اٹھایا۔
پربھا کر نے میٹنگ میں کہاکہ میونسپالٹی کے دلال وزٹنگ کارڈ تیار کرکے تقسیم کررہے ہیں، میونسپالٹی بھی آرٹی اؤ کی طرح ہوگئی ہے۔ دفتر بند ہونے کے بعد بھی ایجنٹ آفس آتے ہیں۔انہوں نے صدر سے کہاکہ وہ اس سلسلے میں سخت کارروائی کریں۔ صدر نے کہاکہ اس سلسلےمیں اوقات کا تعین کرتے ہوئے انہیں دوپہر میں 3سے 30-5بجے تک دفتر میں موجود رہتے ہوئے عوام کو سہولت مہیا کی جائے گی۔
کچرا پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی : میونسپالٹی ممبران نے زور دیا کہ شہر میں جہاں تہاں کچرا پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ماحولیاتی انجنئیر نے وضاحت کرتےہوئےکہاکہ ابھی تک کچرا پھینکنے والوں سے 66ہزار روپئے جرمانہ وصول کیاگیا ہے۔ اسی طرح خود کار صفائی اداروں سے بھی کہاگیا ہے کہ شہر کے گندے علاقوں کو صاف کریں۔ جہاں جہاں زیادہ کچر اپھینکا جا رہا ہے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرتےہوئے 5ہزار روپئے کا جرمانہ حاصل کرنے پر وجئے کوڈوؤر نے زور دیا۔
رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ نے کہاکہ الوؤور سمیت مونسپالٹی حدود کے اطراف والی گرام پنچایتوں کو 15جنوری سے سوکھا اور کچا کچرا جمع کرنے کا نظم کیا گیا ہے اور ان کچروں کو مناسب قیمت پر بیچنے کا انتظا م کیاگیا ہے۔ اس موقع پر کونسلر اے پی کوڈنچی نے کہا کہ خود کار صفائی ادارے گھر گھر جاکر ٹھیک طرح سے کچرا جمع نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ جہاں جگہ ملتی ہے وہاں کچرا پھینکنے پر مجبور ہیں۔
واراہی پائپ لائن کا مسئلہ : میٹنگ میں واراہی سے پانی سپلائی منصوبے کے متعلق جاری پائپ لائن کام کی وجہ سے شہر میں ہونے والے مسائل کو لے کر ممبران نے اعتراض پیش کیا۔ اس تعلق سے واراہی انجنئیر راج شیکھر نے بتایا کہ جاری کاموں کی وجہ سے شہر میں اپریل کے مہینے میں پینے کے پانی کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اس سلسلے میں وارڈ کے مطابق کام کرنے اور وارڈ ممبران اور انجنئیر کی صلاح کے مطابق کام کرنے کافیصلہ لیاگیا ۔
آوارہ کتوں سمیت لا وارث جانوروں کو ٹھکانہ تلاش کرنے کے تعلق سے آفسران نے بتایا کہ اس کے لئے بڈین گوڈے میں تین سینٹ زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس بات کی بھی جانکاری دی گئی کہ شہر میں پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے سڑکوں پر مارکر پینٹ پوت کر سڑک تحفظ اقدامات کرنے کے متعلق میونسپالٹی کی طرف سے شہری ٹرافک پولس تھانے کو پیش کش ارسال کی گئی ہے ۔ میٹنگ میں بلدیہ کی نائب صدر لکشمی منجوناتھ ، کمشنر ڈاکٹر اُدئیے شٹی موجود تھے۔