انکولہ:2؍ جون (ایس اؤ نیوز)منجگونی۔گنگاولی کے درمیان برج کی تعمیر اور کوڈسنی میں پُل کی تعمیر کے لئے بڑی مقدار میں ذخیرہ کردہ مٹی سے بارش کے موسم میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، ذخیرہ کردہ مٹی کو فوری طورپر متعلقہ جگہ سے نکالنےکا مطالبہ لے کر جمعہ کی صبح 11بجے مختلف تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے احتجاج کرتےہوئے تحصیلدار کو میمورنڈم دیاجائے گا۔
پچھلے تین برسوں سے گنگاولی ندی میں سیلاب امڈ کر آرہاہے، علاقےکے عوام کی زندگی مشکلات میں گھر جاتی ہے۔ 1962میں گنگاولی ندی میں بہت بڑے پیمانےکا سیلاب آیا تھا اس کے بعد کوئی سیلاب نہیں آیا ہے۔ لیکن آئی آر بی کمپنی کی جانب سے کوڈسنی کے قریب گنگاولی ندی پر برج تعمیر کے لئے ذخیرہ کردہ مٹی نہیں نکالی گئی ہے اور منج گونی ۔ گنگاولی کے درمیان بھی برج تعمیر کے لئے ڈالی گئی مٹی بھی یوں ہی چھوڑ دی گئی ہے جس سے مصنوعی سیلاب کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ اسی لئے تنظیمیں اور شہریوں کی جانب سے مٹی کو متعلقہ جگہ سے نکالنے دباؤ بنانے کےلئے احتجاج کے ذریعے میمورنڈم دینا طئےکیاگیا ہے۔ متعلقہ مصنوعی سیلاب کی وجہ سے کئی سارےدیہات کے عوام پریشان ہیں۔
اس تعلق سے مقامی عوام جب تحصیلدار سے وضاحت چاہی تو تحصیلدار نے کہاکہ ٹھیکیدار کونوٹس بھیجتے ہوئے کہاگیا ہےکہ وہ مٹی نکال لے۔ لیکن بارش کا موسم شروع ہونےکو ہے ابھی مٹی متعلقہ جگہ پر جوں کی توں باقی ہے۔ حالات سے برہم عوام 3جون کی صبح 11بجے تحصیلدار کو میمورنڈم دیاجائے گا۔ اور تحصیلدار کو اپنے ساتھ لے جاکر جائے وقوع کا معائنہ کرنے پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔ پُنیت راج کمار ابھیمانی بلگا کے صدر ناگراج منجگونی ، اعزازی صدر شری پاد نائک، جنرل سکریٹری پرشانت نائک وغیرہ نے احتجاج میں وقت پر شریک ہوتےہوئے عوامی تعاون پیش کرنےکی اپیل کی ہے۔