مینگلور:7/جولائی (ایس اؤنیوز) گزشتہ دنوں بی سی روڈ پر شرتھ نامی آر ایس ایس کارکن پرہوئے جان لیوا حملے کے خلاف بی جے پی کے قائدین اوررضاکاروں نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندو ہتھا رکھشنا ویدیکے کے زیر اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ پولیس نے اس موقع پر بی جے پی ایم پی شوبھا کرندلاجے، نلین کمار کٹیل، ایم ایل اے سنیل کمار، ایم ایل سی کیپٹن گنیشن کارنک، بی جے پی قائد پدنامابھا کوٹاری، ناگراج شیٹی، جگدیش شینووا،مونپا بھنڈاری، روکمیا پجاری، شرن پمپ ویل،ستیہ جیت سورتکل،جگدیش ادھیکاری اور دیگر احتجاجیوں کو دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ پھر انہیں پولیس بسوں میں بھر کربیلتھنگڈی اورپتور لے جایا گیا اوربعد میں رہا کردیا گیا۔پولیس کے مطابق اس نے 500سے زیادہ افراد پر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کا کیس دفعہ 143اور149کے تحت درج کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لئے بی سی روڈ پر کشیدگی پید اہوگئی تھی مگر احتجاجیوں کی گرفتاری کے بعد وہاں کے حالات نارمل ہوئے اور گاڑیوں کی آمد و رفت بحال ہوئی۔کہاجاتا ہے کہ اپنی اشتعال انگیزی کے لئے معروف کلاڈکا پربھاکر بھٹ نے بھی احتجاجی مظاہرے میں تھوڑی دیر کے لئے شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب بھی کیا مگر اس کے حامیوں نے اسے اپنے گھیرے میں لے کر اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا اورپولیس کو اسے کسی بھی حالت میں گرفتار کرنے کا موقع نہیں دیا۔
احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے نے ریاستی حکومت اور مسلمانوں کے خلاف حسب عاد ت اپنی بھڑاس نکالی۔ شوبھا نے کہا کہ" ریاستی حکومت کچھ دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہے۔سدارامیاکی سرکارامن و امان کو برقرار رکھنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔یہ ایک قاتل حکومت ہے۔جنوبی کینرا میں وقوع پزیر ہونے والے تمام غیر قانونی معاملات کا انداز ایک جیسا ہے۔اور یہ سب کچھ حکومت کی حمایت سے ہورہا ہے۔"شوبھا نے حملہ آوروں کو گرفتار کرنے میں ناکامی پر پولیس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کو احتجاجیوں کی آواز دبانے کے لئے استعمال کیا جارہاہے ، اور کانگریسی حکومت ایسی وارداتوں پر قابو پانے کے بجائے اسے ہوا دے رہی ہے۔
رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کہا کہ ہندوؤں کے خلاف ظلم و ستم بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اگر ہمیں تحفظ نہیں ملا تو پھر ہم اپنا احتجاج تیز کردیں گے۔جبکہ پربھاکر بھٹ نے کہا کہ "فرقہ پرست کشیدگی پیدا کرنے کے لئے ہندوؤں پر گھات لگاکر حملے کررہے ہیں۔اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم اپنی حفاظت کے لئے کسی کے پاس جابھی نہیں سکتے۔حکومت خود گؤ کشی جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت کر رہی ہے اور اس کی حمایت کررہی ہے۔ہم قانون کا احترام کرتے ہیں اس لئے ہم نے گزشتہ مرتبہ احتجاجی مظاہرہ ملتوی کیا تھا۔لیکن اب ہندو قوم کے صبر کا پیمانہ بھر گیا ہے۔اب ہمیں اپنا درد دکھانا ضروری ہوگیا ہے۔
فی الحال حالات پولس کے قابو میں ہیں ، جائے وقوع پر آئی جی پی ہری شیکھرن سمیت پولس کے اعلیٰ حکام پوری طرح نگاہ بنائے ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ان تمام حالات سے عوام جب خوف کھاتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی طرف نکلنے لگے تو دکانداروں نے از خود اپنی دکانیں وغیرہ بند کرنی شروع کردی۔
بند ، احتجاج اورحالات کو دیکھتے ہوئے پولس نے بی سی روڈ پر سواریوں کی ٹرافک کو روک رکھا تھا۔ منگلورو سے بی سی روڈ جانے والی تمام سواریوں کو فرنگی پیٹ میں ہی روک لیا گیا تھا۔ اسی طرح کلڈکا سے آنے والی سواریوں کو ملکار میں پولس کی جانب سے تمام سواریوں کو متبادل راستے سے باہر نکلنےمیں رہنمائی کی گئی۔ قومی شاہراہ 75پر حالات کی وجہ سے ٹرافک نظام بگڑ گیا تھا، شاہراہ پر سواریوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں، عوام کو بھی کافی پریشانیاں جھیلنی پڑی۔